شگفتہ مزاجی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خوش دی، شگفتگی، خوش طبعی۔ "بہر حال جواہر لال کی معاملہ فہمی اور شگفتہ مزاجی سے معاملہ رفع دفع ہو گیا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٥١٤ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اسم صفت 'شگفتہ' کے ساتھ عربی سے مشتق اسم 'مزاج' ملنے سے مرکبِ توصیفی 'شگفتہ مزاج' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت بڑھانے سے 'شگفتہ مزاجی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٩٨٢ء کو "آتشِ چنار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوش دی، شگفتگی، خوش طبعی۔ "بہر حال جواہر لال کی معاملہ فہمی اور شگفتہ مزاجی سے معاملہ رفع دفع ہو گیا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٥١٤ )

جنس: مؤنث